ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / کاروارسرکاری پی یوکالج میں لکچرر کی جنسی کرتوت پر مشتعل طالبہ نے لیکچرر کی کی چپل سے دھلائی

کاروارسرکاری پی یوکالج میں لکچرر کی جنسی کرتوت پر مشتعل طالبہ نے لیکچرر کی کی چپل سے دھلائی

Thu, 04 Mar 2021 18:48:18    S.O. News Service

کاروار:4؍مارچ  (ایس اؤ نیوز)کاروار کی سرکاری پی یوکالج کے ایک لکچرر  کو اپنی ہی کالج کی طالبہ کے ہاتھوں چپل سے مارکھانی پڑی ، یہ واقعہ بدھ کو پیش آیا۔ بتایا گیا ہے کہ متعلقہ لیکچرر نے اُس طالبہ کے  ساتھ جنسی ہراسانی  کی تھی  جس پر ناراض  طالبہ نے  کالج پرنسپال اور دیگر عملے کے سامنے ہی متعلقہ لکچرر کی  چپل سے دھلائی کردی۔

کالج لکچرر کی جنسی حرکات سے بیزار کالج طلبا و عملےنے لکچرر کے تبادلے کی آواز اٹھاتے ہوئے فیصلہ لیاگیا کہ  ودھان پریشد کے اسپیکر بسوراج ہورٹی کو شکایت سونپ کر تبادلہ کیا جائے۔

واقعہ کیا ہے؟:قریب چار روزپہلے کالج میں یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ طالبہ حسب معمول روزانہ کی طرح کالج میں پیدل جارہی تھی تو متعلقہ لکچرر نے جان بوجھ کر ٹکر ماری ہے۔ طالبہ  اچانک ٹکر ہوئی ہوگی سمجھ کر خاموش رہی ۔ اس کی تھوڑی دیر بعد متعلقہ لکچرر نے اسی طالبہ کو کلاس روم بلا بھیجا تو کلاس روم گئی۔ وہاں لکچرر بڑی بے شرمی کے ساتھ طالبہ کے جسم کو چھونا شروع کیاتوطالبہ  لکچرر کی اس کرتوت سے حیرت میں پڑ گئی ، لیکن لکچرر مزید آگے بڑھاتو طالبہ گھبرا کر چیخ پکار کرتےہوئےوہاں سے بھاگ  نکلی ۔ سہمی ہوئی طالبہ نے اپنے سابق استاد سے رابطہ کرتےہوئے خوف کی حالت میں  اپنے ساتھ لکچرر کے نازیبا سلوک کا ذکر کیا۔ سابق استاد نے طالبہ کو ہمت سے کام لینے کی تلقین کرتےہوئے اسی کالج کے ایک لکچرر کو واقعہ کی تفصیل بتائی ہے۔ کالج کے لکچرر نے واقعہ کی جانکاری ملتے ہی جنسی ہراسانی کئے لکچرر کے پاس پہنچ کر کہاکہ طالبہ سے معافی مانگیں۔ لیکن لکچرر نے کوئی پراوہ ہی نہیں کی ۔ اس کے بعد طالبہ کی طرف سے پرنسپال کے سامنے شکایت پیش کی گئی ۔ منگل کو پرنسپال کے چیمبر میں سبھی کے سامنے طالبہ نے لکچرر کو چپل سےمارتے ہوئے سبق سکھایا ۔ اس کے بعد لکچرر نے معافی لکھ کر دیاہے۔

واقعہ کی جانکاری پاتے ہی کالج کے طلبا وطالبات نے بھی لکچرر کو کافی کچھ سنایا ہے۔ اسی دوران لکچرر کے خاندان والےکالج پہنچ کر پرنسپال ، اساتذہ اور طلبا سے ہمدردی کی اپیل کی تو طالبہ نے کہاکہ صرف آپ کے گھر والوں کی وجہ سے آج بچ گئےہیں اور تمہیں معطل کرنےکے بجائے تبادلہ کا فیصلہ لینے کی بات کہی۔


Share: